Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهْوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهْىَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهْوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ". قَالَ فَسَمِعْتُ هَؤُلاَءِ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَحْسِبُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ".
English Translation
It is narrated by Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both) who said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stating: 'Every one of you is a guardian and is responsible for his charges. The ruler is a guardian and is responsible for his subjects. A man is a guardian of his household and is responsible for his charges. A woman is a guardian of her husband's home and is responsible for her charges. A servant is a guardian of his master's property and is responsible for his charge.' (Hadrat Ibn Umar, may Allah be well pleased with them both, said:) I heard these from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and I believe he (blessings and peace of Allah be upon him) also stated: 'A man is a guardian of his father's property and is responsible for his charges. Thus, every one of you is a guardian and every one of you is responsible for his charges.'
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ حاکم نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ مرد اپنے اہلِ خانہ میں نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔ (حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:) یہ باتیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں، اور مجھے خیال ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا: مرد اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ پس تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم سب سے اپنی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔
