العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ، فَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ خَلِيقًا لِلإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ ".
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) states, 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) appointed Hadrat Usamah (bin Zayd) (may Allah be well pleased with them both) as the commander of an army. People criticized his leadership. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared: If you criticize his leadership, you had also criticized the leadership of his father (Hadrat Zayd bin Harithah, may Allah be well pleased with him) before him. By Allah! He was worthy of leadership and was among the most beloved of people to me. And this one (Hadrat Usamah) is also among the most beloved of people to me after him.'
الترجمة الأردية
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسامہ (بن زید) رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ایک فوج کا سردار مقرر فرمایا۔ لوگوں نے ان کی سرداری پر اعتراض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم ان کی سرداری پر اعتراض کرتے ہو تو تم نے ان سے پہلے ان کے والد (حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی سرداری پر بھی اعتراض کیا تھا۔ اللہ کی قسم! وہ سرداری کے لائق تھے اور مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے تھے۔ اور یہ (اسامہ) بھی مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہیں ان کے بعد۔
