عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَايِعْنِي عَلَى الإِسْلاَمِ. فَبَايَعَهُ عَلَى الإِسْلاَمِ، ثُمَّ جَاءَ الْغَدَ مَحْمُومًا فَقَالَ أَقِلْنِي. فَأَبَى، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ " الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ، تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طِيبُهَا ".
انگریزی ترجمہ
Hadrat Jabir bin Abdullah (may Allah be well pleased with them both) narrated that a Bedouin came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said: 'Take my pledge of allegiance for Islam.' So he (blessings and peace of Allah be upon him) took his pledge for Islam. The next day the Bedouin came with fever and said: 'Cancel my pledge.' He (blessings and peace of Allah be upon him) refused. When the Bedouin turned to leave, he declared: 'Madinah is like a furnace (bellows) — it expels its impurities and brightens its pure (substance).'
اردو ترجمہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اسلام پر مجھ سے بیعت لیجیے۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اسلام پر بیعت لی۔ پھر وہ دوسرے دن بخار میں آیا اور عرض کیا: میری بیعت فسخ کر دیجیے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرمایا۔ جب وہ پلٹ کر چلا تو آپ نے ارشاد فرمایا: مدینہ بھٹی کی طرح ہے، اپنے میل کچیل کو نکال دیتا ہے اور اپنی خالص (چیز) کو چمکا دیتا ہے۔
