Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَتَتْهَا بَرِيرَةُ تَسْأَلُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتُ أَهْلَكِ وَيَكُونُ الْوَلاَءُ لِي. فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَّرْتُهُ ذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ ".
English Translation
Narrated by Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her): Barirah came to her seeking help with her Kitabah (emancipation contract). Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said: 'If you wish, I will pay your owners and the Wala' will be mine.' When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came, I mentioned this to him. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Buy her and set her free, for the Wala' belongs only to the one who sets free.' Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood on the pulpit and stated: 'What is the matter with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah? Whoever stipulates a condition that is not in the Book of Allah, it is not valid for him, even if it be a hundred conditions.'
Urdu Translation
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، یحییٰ سے، عمرہ سے، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے، فرمایا: بریرہ ان کے پاس آئی اور اپنی مکاتبت میں مدد مانگی۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے مالکوں کو رقم ادا کر دوں اور ولاء میری ہوگی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات عرض کی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے خرید لو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء تو اسی کی ہے جو آزاد کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں! جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں ہے تو وہ اس کے لیے نہیں ہے، اگرچہ سو شرطیں ہوں۔
