Arabic (Original)
960 صحيح حديث عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذلِكَ بَرِيرَةُ َلأهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لَنَا؛ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كَتَابِ اللهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ
English Translation
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that Barirah came to her seeking help with her contract of emancipation (kitabah), and she had not yet paid anything. Aisha said to her: "Go back to your owners. If they agree that I pay your contract price and your loyalty (wala') shall be to me, I will do it." Barirah mentioned this to her owners, but they refused and said: "If she wants to do this as a charitable act for you, she may, but your wala' shall remain with us." Aisha mentioned this to the Messenger of Allah (peace be upon him), who said: "Buy her and set her free, for wala' belongs only to the one who sets the slave free." Then the Messenger of Allah (peace be upon him) stood up and said: "What is wrong with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah? Whoever stipulates a condition not in the Book of Allah, it is invalid, even if he stipulates a hundred conditions. Allah's condition is more deserving and more binding."
Urdu Translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس اپنے معاملہ مکاتبت میں مدد لینے آئیں، ابھی انہوں نے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ تو اپنے مالکوں کے پاس جا اگر وہ یہ پسند کریں کہ تیرے معاملہ مکاتبت کی پوری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے ساتھ قائم ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ صورت اپنے مالکوں کے سامنے رکھی لیکن انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ اگر وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) تمہارے ساتھ ثواب کی نیت سے یہ نیک کام کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اختیار ہے لیکن تمہاری ولاء تو ہمارے ہی ساتھ رہے گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے کیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تو خرید کر انہیں آزاد کر دے، ولاء تو اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔“راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا:”کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب اللہ میں نہیں، پس جو بھی کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو تو وہ ان سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا خواہ وہ ایسی سو شرطیں کیوں نہ لگا لے، اللہ تعالیٰ کی شرط ہی سب سے زیادہ معقول اور مضبوط ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب العتق/حدیث: 960]
