Arabic (Original)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ، وَقَدْ وَهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ. فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ الثَّلاَثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلاَّ الإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ.
English Translation
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrated that when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and his Companions arrived at Makkah (for Umrat al-Qada' in 7 AH), the pagans spread the rumour that a group was coming to them who had been weakened by the fever of Yathrib (Madinah). So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) commanded his Companions (may Allah be well pleased with them) to do Ramal (walk briskly with vigour) in the first three rounds of Tawaf and to walk normally between the two Yemeni Corners. He did not command them to do Ramal in all the rounds out of consideration for their wellbeing.
Urdu Translation
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ (عمرۃ القضاء ۷ ہجری میں) جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (مکہ مکرمہ) تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) آئے ہیں، ان کے ساتھ ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حکم فرمایا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل (تیز چلنا جس سے اظہارِ قوت ہو) کریں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسبِ معمول چلیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم نہیں فرمایا کہ سب چکروں میں رمل کریں تاکہ ان پر آسانی رہے۔
