Arabic (Original)
795 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ وَقَدْ وَهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ الثَّلاَثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلاَّ الإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ
English Translation
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both): "The Messenger of Allah (peace be upon him) and his Companions arrived (in Makkah), and the polytheists said: 'A people weakened by the fever of Yathrib (Madinah) are coming upon you.' So the Prophet (peace be upon him) ordered them to walk briskly (raml) for the first three circuits and to walk normally between the two Yemeni corners. The only thing that prevented him from ordering them to walk briskly in all the circuits was his compassion for them."
Urdu Translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (عمرہ القضاء 7ھ میں) جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد آئے ہیں، ان کے ساتھ ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے، اس لیے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے حکم دیا کہ”طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل (تیز چلنا جس سے اظہارِ قوت ہو) کریں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسبِ معمول چلیں“اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ حکم نہیں دیا کہ سب پھیروں میں رمل کریں، اس لیے کہ ان پر آسانی ہو۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 795]
