Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا فَأَطْلَعَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَا قَالُوهُ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ الثَّلاَثَةَ وَأَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ فَلَمَّا رَأَوْهُمْ رَمَلُوا قَالُوا هَؤُلاَءِ الَّذِينَ ذَكَرْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ هَؤُلاَءِ أَجْلَدُ مِنَّا . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ إِلاَّ إِبْقَاءً عَلَيْهِمْ .
English Translation
Hadrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to the blessed city of Makkah while the fever of Yathrib (Madinah al-Munawwarah) had weakened the noble Companions. The idolaters said: A people are coming to you whom the fever has weakened and who have suffered greatly. Allah, Glorified and Exalted, informed His Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of what they had said. He therefore commanded the Companions to perform ramal in the first three circuits and to walk normally between the Yamani Corner and the Black Stone. When the idolaters saw them performing ramal, they exclaimed: These are the ones about whom you said that fever had weakened them? They are more vigorous than we are! Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) says: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) did not command them to perform ramal in all the circuits; this was only out of mercy and compassion for them.
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے اور صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مدینہ منورہ کے بخار نے کمزور کر دیا تھا۔ مشرکین نے کہا: تمہارے پاس ایسی قوم آ رہی ہے جنہیں بخار نے ضعیف کر دیا ہے اور انہوں نے بڑی مصیبت جھیلی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی اس گفتگو سے آگاہ فرما دیا، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام کو حکم فرمایا کہ پہلے تین چکروں میں رَمَل کریں اور رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان عام چال چلیں۔ جب مشرکین نے انہیں رَمَل کرتے دیکھا تو کہنے لگے: یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم نے کہا تھا کہ بخار نے انہیں کمزور کر دیا ہے؟ یہ تو ہم سے بھی زیادہ مضبوط ہیں! حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ساتوں چکروں میں رَمَل کا حکم نہ فرمایا، یہ صرف صحابۂ کرام پر شفقت اور نرمی کی وجہ سے تھا۔
