عربی (اصل)
ناسُفْيَانُ، عَنْعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ، سَمِعَمُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ, يُخْبِرُ عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ, قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123، شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّ كُلَّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا وَالنَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا".
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) said: 'When the verse was revealed: "Whoever does evil will be recompensed for it" (al-Nisa: 123), it weighed heavily on the Muslims. The Messenger of Allah (peace be upon him) said to them: "Be moderate and do your best, for everything that afflicts a Muslim is an expiation—even a thorn that pricks him or a stumble he takes."'
اردو ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب یہ آیت نازل ہوئی﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾تو یہ مسلمانوں پر بہت شاق گزری، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا: قریب رہو اور میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جو کچھ بھی مسلمان کو پہنچتا ہے وہ اس کے لیے کفارہ بنتا ہے، حتیٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے اور وہ ٹھوکر جو وہ کھاتا ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 694]
