عربی (اصل)
ناشَرِيكٌ، عَنْعَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْعِكْرِمَةَ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: هَلْ مُبَارِزٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْرُزْ لَهُ يَا زُبَيْرُ"، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: وَاحِدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:" نَعَمْ"، فَبَرَزَ لَهُ فَقَتَلَهُ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ.
انگریزی ترجمہ
On the day of Khaybar, a Jew called for single combat. The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Go out against him, O Zubayr." Safiyyah (may Allah be pleased with her) said: "O Messenger of Allah, he is my only son!" The Prophet said: "Yes." So al-Zubayr went out, killed the man, and the Prophet granted him his spoils.
اردو ترجمہ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ خیبر کے دن ایک یہودی نے مبارزت کا مطالبہ کیا، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے زبیر! اس کے مقابلے کے لیے نکل۔“سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:”اے اللہ کے رسول! یہ میرا اکیلا بیٹا ہے۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں۔“تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں نکلے اور اسے قتل کیا، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کا مال بطور انعام سیدنا زبیر کو دے دیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3871]
