عربی (اصل)
كما حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الجَرَّاحي بمَرْو، حدثنا عَبْدانُ محمد بن عيسى الحافظ، حدثنا عبد الجبار بن العلاء ومحمد بن ميمون قالا: حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن أبي صالح، عن أبي هريرة روايةً قال:"يُوشِكُ الناسُ أن يَضرِبوا أكبادَ الإبل" الحديث. وليس هذا ممّا يُوهِنُ الحديث، فإنَّ الحُميدي هو الحَكَمُ في حديثه لمعرفته به وكَثْرة ملازمته له، وقد كان ابنُ عيينة يقول: نرى هذا العالمَ مالكَ بنَ أنس.
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Soon people will strike the livers of camels..." (similar to the previous hadith). The narrator sometimes reporting it as a direct statement does not weaken the hadith, as al-Humaydi was the most knowledgeable of his teacher's (Sufyan ibn Uyaynah's) hadith due to his long companionship. Ibn Uyaynah used to say: "We consider this scholar to be Malik ibn Anas."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”عنقریب لوگ اونٹوں کو تیز دوڑائیں گے...“(سابقہ حدیث کے مثل)۔راوی کا اسے کبھی”روایت ہے“کہنا حدیث کو کمزور نہیں کرتا، کیونکہ حمیدی اپنے استاد (سفیان بن عیینہ) کی احادیث کے معاملے میں سب سے زیادہ باخبر اور ان کی طویل صحبت رکھنے والے ہیں، اور ابن عیینہ فرمایا کرتے تھے کہ ہماری رائے میں اس (مدینہ کے) عالم سے مراد امام مالک بن انس ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 312]
