عربی (اصل)
240 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ، وَصَحْبَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ، يَنْظُرُ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنَ الْفَرَحِ بِرُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلاَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكمْ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Anas ibn Malik al-Ansari — who followed and served the Prophet (peace be upon him): Abu Bakr used to lead them in prayer during the Prophet's fatal illness. On Monday, when they were standing in rows for prayer, the Prophet (peace be upon him) lifted the curtain of Aisha's room and looked at us while standing. His face was like a page of the Quran (bright and clear). He smiled and laughed. We were almost distracted from our prayer out of joy at seeing the Prophet. Abu Bakr stepped back to join the row, thinking the Prophet would come out for the prayer. The Prophet gestured to us to complete the prayer. Then he let the curtain fall, and he passed away that same day.
اردو ترجمہ
سیدنا انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ، جو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی پیروی کرنے والے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے خادم اور صحابی تھے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے مرض الموت میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے تھے۔ پیر کے دن جب لوگ نماز میں صف باندھے کھڑے ہوئے تھے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمحجرے کا پردہ ہٹائے کھڑے ہوئے ہماری طرف دیکھ رہے تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکا چہرہ مبارک (حسن و جمال اور صفائی میں) گویا مصحف کا ورق تھا، آپصلی اللہ علیہ وسلممسکرا کر ہنسنے لگے۔ ہمیں اتنی خوشی ہوئی کہ خطرہ ہو گیا کہ کہیں ہم سب آپصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھنے ہی میں مشغول نہ ہو جائیں اور نماز توڑ دیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر صف کے ساتھ آنا چاہتے تھے، انہوں نے سمجھا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنماز کے لیے تشریف لا رہے ہیں، لیکن آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں اشارہ کیا کہ”نماز پوری کر لو“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پردہ ڈال دیا، پس رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی وفات اسی دن ہو گئی۔ («إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»”ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“)۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 240]
