عربی (اصل)
239 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى مَا يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ؛ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ قَالَ: إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاس؛ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ؛ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ، ذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ؛ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارٍ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنه
انگریزی ترجمہ
Narrated Aisha: When the Messenger of Allah (peace be upon him) became severely ill, Bilal came to notify him of the prayer. He said: "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." I said: "O Messenger of Allah, Abu Bakr is a man of tender heart." He said the same again, and I repeated my objection. He said: "Tell Abu Bakr to lead the prayer. You are like the companions of Yusuf." So Abu Bakr led the prayer during the lifetime of the Messenger of Allah (peace be upon him).
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمزیادہ بیمار ہو گئے تھے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کی خبر دینے آئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔“میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں اور جب بھی وہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکی جگہ کھڑے ہوں گے لوگوں کو (شدتِ گریہ کی وجہ سے) آواز نہیں سنا سکیں گے، اس لیے اگر آپصلی اللہ علیہ وسلمعمر رضی اللہ عنہ سے کہتے تو بہتر تھا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔“پھر میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم کہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں اور اگر وہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکی جگہ کھڑے ہوئے تو لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکیں گے، اس لیے اگر عمر رضی اللہ عنہ سے کہیں تو بہتر ہوگا، اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم لوگ صواحبِ یوسف سے کم نہیں ہو، ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔“جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مرض میں کچھ ہلکا پن محسوس فرمایا اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر کھڑے ہو گئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاؤں زمین پر نشان بنا رہے تھے، اس طرح چل کر آپصلی اللہ علیہ وسلممسجد میں داخل ہوئے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکی آہٹ پائی تو پیچھے ہٹنے لگے، اس لیے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اشارے سے روکا، پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں طرف بیٹھ گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبیٹھ کر، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 239]
