Umar bin Hafs bin Ghiyath narrated to us, he said our father narrated to us, he said al-A'mash narrated to us, Ibrahim al-Taymi (upon him be mercy) narrated to me, my father narrated to me, saying: Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) addressed us standing on a pulpit made of bricks. He had a sword from which a scroll was hanging. He said: "By Allah! We have no book to recite besides the Book of Allah and what is in this scroll." He then unrolled it, and therein were the specifications of camels given as blood money. Also written therein was: "Madinah Tayyibah is a sanctuary from Mount Ayr to such-and-such place. Whoever introduces an innovation therein or shelters an innovator, upon him is the curse of Allah, the angels, and all of mankind; Allah shall accept from him neither obligatory nor supererogatory worship." Also written therein was: "The covenant (pledge of protection) of the Muslims is one; even the lowest among them may grant it. Whoever violates a Muslim's covenant, upon him is the curse of Allah, the angels, and all of mankind; Allah shall accept from him neither obligatory nor supererogatory worship." Also written therein was: "Whoever takes as patrons people other than his own freed masters without their permission, upon him is the curse of Allah, the angels, and all of mankind; Allah shall accept from him neither obligatory nor supererogatory worship."
اردو ترجمہ
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، مجھ سے ابراہیم تیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ہمیں اینٹ کے بنے ہوئے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ آپ کے پاس ایک تلوار تھی جس میں ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہمارے پاس کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب نہیں جو پڑھی جائے، سوائے اس صحیفے کے۔ پھر اسے کھولا تو اس میں دیت کے اونٹوں کی عمروں کا بیان تھا، اور اس میں یہ بھی تھا: "مدینہ طیبہ عیر پہاڑ سے فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس کا نہ فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔" اور اس میں یہ بھی تھا: "تمام مسلمانوں کا ذمہ (عہد و امان) ایک ہے، ان کا ادنیٰ سے ادنیٰ فرد بھی عہد دے سکتا ہے۔ جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس کا نہ فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔" اور اس میں یہ بھی تھا: "جس نے اپنے موالیوں کی اجازت کے بغیر کسی اور سے ولاء کا رشتہ جوڑا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس کا نہ فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔"
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (20)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
قَالَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلاَّ كِتَابُ اللَّهِ، غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ. قَالَ فَأَخْرَجَهَا فَإِذَا فِيهَا أَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَأَسْنَانِ الإِبِلِ. قَالَ وَفِيهَا ا…
مَا كَتَبْنَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ الْقُرْآنَ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا، أَ…
صحیح بخاری
مَا عِنْدَنَا شَىْءٌ إِلاَّ كِتَابُ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ، مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ…
Umar bin Hafs bin Ghiyath narrated to us, he said our father narrated to us, he said al-A'mash narrated to us, Ibrahim al-Taymi (upon him be mercy) narrated to me, my father narrated to me, saying: Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) addressed us standing on a pulpit made of bricks. He had a sword from which a scroll was hanging. He said: "By Allah! We have no book to recite besides the Book of Allah and what is in this scroll." He then unrolled it, and therein were the specifications of camels given as blood money. Also written therein was: "Madinah Tayyibah is a sanctuary from Mount Ayr to such-and-such place. Whoever introduces an innovation therein or shelters an innovator, upon him is the curse of Allah, the angels, and all of mankind; Allah shall accept from him neither obligatory nor supererogatory worship." Also written therein was: "The covenant (pledge of protection) of the Muslims is one; even the lowest among them may grant it. Whoever violates a Muslim's covenant, upon him is the curse of Allah, the angels, and all of mankind; Allah shall accept from him neither obligatory nor supererogatory worship." Also written therein was: "Whoever takes as patrons people other than his own freed masters without their permission, upon him is the curse of Allah, the angels, and all of mankind; Allah shall accept from him neither obligatory nor supererogatory worship."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، مجھ سے ابراہیم تیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ہمیں اینٹ کے بنے ہوئے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ آپ کے پاس ایک تلوار تھی جس میں ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہمارے پاس کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب نہیں جو پڑھی جائے، سوائے اس صحیفے کے۔ پھر اسے کھولا تو اس میں دیت کے اونٹوں کی عمروں کا بیان تھا، اور اس میں یہ بھی تھا: "مدینہ طیبہ عیر پہاڑ سے فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس کا نہ فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔" اور اس میں یہ بھی تھا: "تمام مسلمانوں کا ذمہ (عہد و امان) ایک ہے، ان کا ادنیٰ سے ادنیٰ فرد بھی عہد دے سکتا ہے۔ جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس کا نہ فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔" اور اس میں یہ بھی تھا: "جس نے اپنے موالیوں کی اجازت کے بغیر کسی اور سے ولاء کا رشتہ جوڑا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس کا نہ فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔"
مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَ…
رأيت عليا رضي الله عنه على المنبر يخطب، فسمعته يقول: لا والله ما عندنا من كتاب نقرؤه إلا كتاب الله، وما في هذه الصحيفة، فنشرها فإذا فيها أسنان الإبل، وأشياء من الجراحات، وفيها: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "…