عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرِجْلاَىَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَىَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا. قَالَتْ وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ.
انگریزی ترجمہ
Narrated by Hadrat ' Aisha al-Siddiqah, Umm al-Mu'minin (may Allah be well pleased with her), the wife of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), who said: I would sleep in front of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) with my feet stretched towards his direction of prayer (Qiblah). Whenever he prostrated, he would gently touch my feet and I would draw them in. When he stood up, I would stretch them out again. And in those days there were no lamps in the houses.
اردو ترجمہ
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابوالنضر سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سوئی رہتی تھی اور میرے پاؤں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قبلے کی سمت (پھیلے ہوئے) ہوتے۔ جب آپ سجدہ فرماتے تو ہلکے سے میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی۔ جب قیام فرماتے تو میں انہیں پھیلا لیتی۔ اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
