عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّي وَهْىَ مُشْرِكَةٌ، فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ {إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ} وَهْىَ رَاغِبَةٌ، أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ " نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ ".
انگریزی ترجمہ
Narrated to us by Ubaid bin Isma'il, narrated to us by Abu Hadrat Usamah, from Hisham, from his father, that Hadrat Asma bint Abi Bakr (may Allah be well pleased with them both) stated, 'My mother came to me during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and she was a polytheist. I asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) for a ruling, submitting, "My mother has come, and she is desirous (of Islam). Should I maintain ties with my mother?" He (blessings and peace of Allah be upon him) declared, "Yes, maintain ties with your mother."'
اردو ترجمہ
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ہشام سے، ان کے والد سے، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں میری والدہ میرے پاس آئیں اور وہ مشرکہ تھیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے فتویٰ پوچھا، عرض کیا کہ میری والدہ آئی ہیں اور وہ (اسلام کی) خواہش رکھتی ہیں، کیا میں اپنی والدہ سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں، اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔
