عربی (اصل)
587 صحيح حديث أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ، وَهِيَ رَاغِبَةٌ: أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ: نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Asma bint Abu Bakr: My mother came to me during the time of the Messenger of Allah (peace be upon him), while she was a polytheist. I asked the Messenger of Allah (peace be upon him): "My mother has come wanting something from me. Should I maintain ties with my mother?" He said: "Yes, maintain ties with your mother."
اردو ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے زمانے میں میری والدہ (قتیلہ بنت عبدالعزی) جو مشرکہ تھیں، میرے یہاں آئیں، میں نے (ان کے متعلق) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھا، میں نے یہ بھی کہا کہ وہ (مجھ سے ملاقات کی) بہت خواہش مند ہیں، تو کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں، اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 587]
