Arabic (Original)
ناهُشَيْمٌ، قَالَ: نَادَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُمُجَاهِدًا، عَنِ الظِّهَارِ مِنَ الأَمَةِ، فَقَالَ:" لَيْسَ بِشَيْءٍ"، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ سورة المجادلة آية 3، أَفَلَسْنَ مِنَ النِّسَاءِ؟، فَقَالَ:" وَاللَّهُ يَقُولُ: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ سورة البقرة آية 282، أَفَتَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ؟".
English Translation
Mujahid (may Allah have mercy on him) was asked about the zihar of a slave woman. He said: It is nothing (not valid). He was asked: Does not Allah say: 'Those who pronounce zihar against their wives' (al-Mujadilah: 3) — are they not women? He replied: And Allah says: 'And bring to witness two witnesses from among your men' (al-Baqarah: 282) — is the testimony of slaves admissible? Just as slaves are excluded from the ruling of witnesses despite being men, slave women are excluded from the ruling of zihar despite being women.
Urdu Translation
مجاہد رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے تو کیا حکم ہوگا؟ انہوں نے فرمایا:”یہ ظہار کچھ بھی نہیں۔“پوچھا گیا:”کیا اللہ عزوجل نے نہیں فرمایا:﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾’اور جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں‘، تو کیا وہ لونڈیاں عورتوں میں شامل نہیں؟“اس پر مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا:”اللہ عزوجل نے یہ بھی فرمایا:﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾’اور اپنے لوگوں میں سے دو مرد گواہ بنا لو‘، تو کیا غلاموں کی گواہی جائز ہے؟“یعنی جیسے گواہی کے معاملے میں مردوں کی قید لگائی گئی اور غلام اس میں شامل نہیں، اسی طرح”بیویوں“کے حکم میں بھی آزاد عورتیں مراد ہیں، لونڈیاں نہیں۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 457]
