Arabic (Original)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِيُّ، حدثنا أبو عاصم. وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز ومحمد بن مسلمة الواسطي قالا: حدثنا يزيد بن هارون؛ قالا: حدثنا بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جدِّه قال: سمعتُ نبي الله ﷺ يقول:"ويلٌ للذي يُحدِّث فيَكذِبُ ويُضحِكُ به القوم، ويلٌ له، ويلٌ له"(2).هذا حديث رواه سفيان بن سعيد والحمَّادان وعبد الوارث بن سعيد وإسرائيل ابن يونس وغيرُهم من الأئمة عن بَهْز بن حكيم، ولا أعلمُ خلافًا بين أكثر أئمة أهل النَّقْل في عَدَالة بهز بن حكيم، وأنه يُجمَع حديثه، وقد ذكره البخاريُّ في"الجامع الصحيح"(1)، وهذا الحديث شاهد لحديث بلال بن الحارث المُزَنِي الذي قدَّمْنا ذكرَه. وقد روى سعيدُ بن إياس الجُرَيري عن حَكِيم بن معاوية، وروى عن أبي التَّيّاح الضُّبَعِي عن معاوية بن حَيْدةَ.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 142 - وهذا شاهد لحديث بلال
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If the believer knew what punishments Allah has, no one would aspire to His Paradise. And if the disbeliever knew the extent of Allah's mercy, no one would despair of His Paradise."
Urdu Translation
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبیصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:”ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہنسائے، اس کے لیے تباہی ہے، اس کے لیے تباہی ہے۔“اس حدیث کو سفیان بن سعید، حمادین (حماد بن سلمہ و حماد بن زید)، عبدالوارث بن سعید اور اسرائیل بن یونس جیسے ائمہ نے بہز بن حکیم سے روایت کیا ہے، اور میں اہل نقل کے اکثر ائمہ کے درمیان بہز بن حکیم کی عدالت (سچائی) کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں جانتا، ان کی حدیث کو جمع کیا جاتا ہے اور امام بخاری نے اپنی”جامع صحیح“میں ان کا ذکر کیا ہے، اور یہ حدیث سیدنا بلال بن حارث مزنی کی اس حدیث کے لیے شاہد ہے جو ہم نے پہلے ذکر کی۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 143]
