Arabic (Original)
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر الداربردي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسي القاضي. وأخبرنا أحمد بن محمد بن سَلَمة(3)العنزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي؛ قالا: حدثنا القَعنبي فيما قَرأَ على مالك. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا ابن أبي أُويس، حدثني مالك، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن أبيه، عن بلال بن الحارث المُزَنِي، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ الرجل ليتكلَّم بالكلمة من رِضْوانِ الله ما كان يظنُّ أَن تَبْلُغَ ما بَلَغَت، فيكتبُ الله له بها رضوانه إلى يوم يلقاهُ، وإنَّ الرجل ليتكلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله ما كان يظنُّ أن تبلُغ ما بَلَغَت، فيكتبُ الله له بها سَخَطَه إلى يوم يلقاه"(1). قال الحاكم: هذا لا يُوهِنُ الإجماع الذي قدَّمنا ذكره، بل يزيده تأكيدًا بمتابعٍ مثل مالك، إلّا أنَّ القول فيه ما قالوه بالزِّيادة في إقامة إسناده.
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Allah has one hundred mercies. He sent down one mercy among the jinn, mankind, animals, and insects. Through it they show compassion and mercy to one another, and through it wild animals are gentle with their young. And He has kept back ninety-nine mercies with which He will show mercy to His servants on the Day of Resurrection."
Urdu Translation
سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک آدمی اللہ کی رضا مندی والی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ اتنی دور تک پہنچ جائے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اس کے لیے اپنی ملاقات کے دن تک اپنی خوشنودی لکھ دیتا ہے، اور بے شک آدمی اللہ کی ناراضگی والی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کا اسے گمان نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اس کے لیے اپنی ملاقات کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“امام حاکم فرماتے ہیں: یہ اس اجماع کو کمزور نہیں کرتا جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا، بلکہ امام مالک جیسے راوی کی متابعت سے اسے مزید تقویت ملتی ہے، سوائے اس کے کہ اس کے بارے میں وہی بات کہی جائے گی جو ماہرین نے اسناد کو مکمل طور پر قائم کرنے کے حوالے سے زیادتی کے متعلق کہی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 142]
