Arabic (Original)
904 صحيح حديث أَنَسٍ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ؛ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ؛ أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ، بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَشى وَمَشَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ؛ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ؛ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا؛ فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ
English Translation
Narrated Anas: I am the most knowledgeable of people about the verse of hijab. Ubayy ibn Ka'b used to ask me about it. The Messenger of Allah (peace be upon him) woke up as a bridegroom of Zaynab bint Jahsh. He had married her in Medina. He invited the people to food after the sun had risen high. The Messenger of Allah (peace be upon him) sat, and some men sat with him after the people had left, until the Messenger of Allah (peace be upon him) stood up. He walked and I walked with him until he reached the door of Aisha's chamber. He thought they had left, so I went back with him, and they were still sitting in their places. He went back and I went back with him a second time until he reached the door of Aisha's chamber. He went back and I went back with him, and they had left. He drew a curtain between me and him, and the verse of hijab was revealed.
Urdu Translation
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پردہ کے حکم کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی شادی کا موقع تھا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے نکاح مدینہ منورہ میں کیا تھا، دن چڑھنے کے بعد نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے لوگوں کی کھانے کی دعوت کی تھی۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بعض اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت تک دوسرے لوگ (کھانے سے فارغ ہو کر) جا چکے تھے، آخر آپ بھی کھڑے ہو گئے اور چلتے رہے، میں بھی آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے پر پہنچے، پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ لوگ (بھی جو کھانے کے بعد گھر میں بیٹھے رہ گئے تھے) جا چکے ہوں گے (اس لیے آپ واپس تشریف لائے)۔ میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، لیکن وہ لوگ اب بھی اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ پھر واپس آ گئے، میں بھی آپ کے ساتھ دوبارہ واپس آیا، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے پر پہنچے، پھر آپ وہاں سے واپس ہوئے، میں بھی آپ کے ساتھ تھا، اب وہ لوگ جا چکے تھے، اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکا لیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 904]
