Arabic (Original)
578 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه، قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ، وَلَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ؛ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ، فَالْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ: مَنْ هذَا قُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ، جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَه قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلاَّ مَنْ أَعْطَاهُ اللهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً؛ فَقَالَ لِي: اجْلِسْ ههُنَا قَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ، فَقَالَ لِي: اجْلِسْ ههُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لاَ أَرَاهُ، فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللُّبْثَ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ، وَهُوَ يَقُولُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ، مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا قَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، قَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ: نَعَمْ قَالَ، قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ: نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ
English Translation
Narrated Abu Dharr: I went out one night and found the Messenger of Allah (peace be upon him) walking alone with no one with him. I walked in the shadow of the moon. He turned and saw me. He said: "Who is this?" I said: "Abu Dharr." He said: "O Abu Dharr, come." We walked together for a while, and he said: "The wealthy will be the poorest on the Day of Resurrection, except those who spend like this and this and this" — gesturing in front of him, behind him, and to his right and left — "and how few they are."
Urdu Translation
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک روز میں رات کے وقت باہر نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتنہا چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے میں سمجھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماسے پسند نہیں فرمائیں گے کہ آپ کے ساتھ اس وقت کوئی رہے، اس لیے میں چاند کے سائے میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پیچھے پیچھے چلنے لگا، اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلممڑے تو مجھے دیکھا اور دریافت فرمایا:”کون ہے؟“میں نے عرض کیا: ابوذر! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ابوذر! یہاں آؤ۔“بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا، اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو لوگ (دنیا میں) زیادہ مال و دولت جمع کیے ہوئے ہیں، قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور انہوں نے اسے دائیں، بائیں، آگے، پیچھے خرچ کیا ہو اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو۔“(سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے) بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہاں بیٹھ جاؤ۔“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے چاروں طرف پتھر تھے اور فرمایا:”یہاں اس وقت تک بیٹھے رہو جب تک میں تمہارے پاس لوٹ کر آؤں۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمپتھریلی زمین کی طرف چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے، آپصلی اللہ علیہ وسلموہاں رہے اور دیر تک وہیں رہے، پھر میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا، آپصلی اللہ علیہ وسلمیہ کہتے ہوئے تشریف لا رہے تھے:”چاہے چوری کی ہو، چاہے زنا کیا ہو۔“سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے تو مجھ سے صبر نہیں ہو سکا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے، اس پتھریلی زمین کے کنارے آپ کس سے باتیں کر رہے تھے؟ میں نے تو کسی دوسرے کو آپ سے بات کرتے نہیں دیکھا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ جبریل علیہ السلام تھے، پتھریلی زمین (حرہ) کے کنارے وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ اپنی امت کو خوش خبری سنا دو کہ جو بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا، میں نے عرض کیا: اے جبریل! خواہ اس نے چوری کی ہو اور زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے پھر عرض کیا: خواہ اس نے چوری کی ہو، زنا کیا ہو؟ جبریل نے کہا: ہاں، خواہ اس نے شراب ہی پی ہو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 578]
