Arabic (Original)
577 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، اسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ؛ فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا، يَأْتِي عَلَيَّ لَيْلَةٌ أَوْ ثَلاَثٌ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلاَّ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلاَّ أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللهِ هكَذَا وَهكَذَا وَهكَذَا وَأَرَانَا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: الأَكْثَرُونَ هُمُ الأَقَلُّونَ إِلاَّ مَنْ قَالَ هكَذَا وَهكَذَا، ثُمَّ قَالَ لِي: مَكَانَكَ، لاَ تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّى أَرْجِعَ فَانْطَلَقَ حَتَّى غَابَ عَنِّي، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عُرِضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَذْهَبَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ تَبْرَحْ، فَمَكُثْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عُرِضَ لَكَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ، فَقُمْتُ؛ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ، أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لاَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ
English Translation
Narrated Abu Dharr: I was walking with the Prophet (peace be upon him) in the volcanic terrain of Medina. We faced Uhud, and he said: "O Abu Dharr!" I said: "Here I am, O Messenger of Allah." He said: "I would not want to have gold equal to this mountain of Uhud unless I spend it all (in Allah's cause) within three nights, except a dinar I keep for a debt."
Urdu Translation
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ رات کے وقت مدینہ منورہ کی کالی پتھروں والی زمین پر چل رہا تھا کہ احد پہاڑ دکھائی دیا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے ابوذر! مجھے پسند نہیں کہ اگر احد پہاڑ کے برابر بھی میرے پاس سونا ہو اور مجھ پر ایک رات بھی اس طرح گزر جائے یا تین رات کہ اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس باقی بچے، سوائے اس کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے محفوظ رکھ لوں، میں اس سارے سونے کو اللہ کی مخلوق میں اس اس طرح تقسیم کر دوں گا“، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کی کیفیت ہمیں اپنے ہاتھ سے لپ بھر کر دکھائی، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے ابوذر!“میں نے عرض کیا:«لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ»”میں حاضر ہوں اور آپ کی بندگی و خدمت کے لیے تیار ہوں اے اللہ کے رسول!“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”زیادہ جمع کرنے والے ہی (ثواب کی حیثیت سے) کم حاصل کرنے والے ہوں گے، سوائے اس کے جو اللہ کے بندوں پر مال اس اس طرح یعنی کثرت کے ساتھ خرچ کرے“، پھر فرمایا:”یہیں ٹھہرے رہو ابوذر! یہاں سے اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک میں واپس نہ آ جاؤں“، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے، اس کے بعد میں نے آواز سنی اور مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکو کوئی پریشانی نہ پیش آگئی ہو، اس لیے میں نے (رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھنے کے لیے) جانا چاہا لیکن فوراً ہی نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکا یہ ارشاد یاد آیا کہ”یہاں سے نہ ہٹنا“، چنانچہ میں وہیں رک گیا، (جب آپ تشریف لائے تو) میں نے عرض کی: میں نے آواز سنی تھی اور مجھے خطرہ ہو گیا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی پریشانی نہ پیش آ جائے، پھر مجھے آپ کا ارشاد یاد آیا اس لیے میں یہیں ٹھہر گیا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ جبریل علیہ السلام تھے، میرے پاس آئے تھے اور مجھے خبر دی ہے کہ میری امت کا جو شخص بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں! اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو“۔)[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 577]
