Arabic (Original)
49 صحيح حديث أَبي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلى المُصَلَّى فَمَرَّ عَلى النِّساءِ فَقَالَ: يا مَعْشَرَ النِّساءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنّي أُريتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ فَقُلْنَ: وَبِمَ يا رَسُولَ اللهِ قَالَ: تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشيرَ، ما رَأَيْتُ مِنْ ناقِصاتٍ عَقْلٍ وَدينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحازِمِ مِنْ إِحْداكُنَّ قُلْنِ: وَما نُقْصانُ دِينِنا وَعَقْلِنا يا رَسُولَ اللهِ قَالَ: أَلَيْسَ شَهادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهادَةِ الرَّجُلِ قُلْنِ: بَلَى، قَالَ: فَذَلِكَ مِنْ نُقْصانِ عَقْلِها، أَلَيْسَ إِذا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ قُلْنَ: بَلى، قَالَ: فَذَلِكَ مِنْ نُقْصانِ دِينِها
English Translation
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "The people of Paradise will see the people of the upper chambers above them as you see a bright star far away on the horizon, in the east or the west, because of the difference in status between them." They said: "O Messenger of Allah, those are the dwellings of the prophets which no one else can reach." He said: "Indeed not. By the One in Whose Hand is my soul, they are men who believed in Allah and believed the messengers."
Urdu Translation
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمعید الاضحیٰ یا عید الفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے، وہاں آپصلی اللہ علیہ وسلمعورتوں کے قریب سے گزرے تو فرمایا:”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔“انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔“عورتوں نے عرض کی: اور ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے، یا رسول اللہ؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟“انہوں نے کہا: جی ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟“عورتوں نے کہا: ایسا ہی ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 49]
