Arabic (Original)
463 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ عَلَيَّ قَالَ: قُلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي قَالَ: فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتُ(فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هؤلاَءِ شَهِيدًا)قَالَ لِي: كُفَّ أَوْ أَمْسِكْ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ
English Translation
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Recite to me." I said: "Shall I recite to you when it was revealed to you?" He said: "I like to hear it from someone other than me." I recited Surah al-Nisa until I reached the verse: "How will it be when We bring a witness from every nation, and We bring you as a witness over them?" He said: "That is enough." I turned to him and his eyes were flowing with tears.
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میرے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرو۔“میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کے سامنے کیا تلاوت کروں جبکہ آپ پر تو قرآن مجید نازل ہی ہوتا ہے؟ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں چاہتا ہوں کہ کسی اور سے سنوں۔“راوی نے بیان کیا کہ میں نے سورہ نساء پڑھی اور جب میں اس آیت﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾[سورة النساء: 41]پر پہنچا تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ٹھہر جاؤ۔“(رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے«كُفَّ»فرمایا یا«أَمْسِكْ»، راوی کو شک ہے) میں نے دیکھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ («كُفَّ»اور«أَمْسِكْ»ہر دو کے ایک ہی معنی ہیں یعنی”رک جاؤ“) آیت میں محشر میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے اس وقت کا ذکر ہے جب آپ اپنی امت پر گواہی کے لیے پیش ہوں گے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 463]
