Arabic (Original)
1059 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثمَّ بَكَى حَتَّى خَضَبَ دَمْعُهُ الْحَصْبَاءَ، فَقَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِكِتَابٍ، أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا، وَلاَ يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوا: هَجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ وَأَوْصى عِنْدَ مَوْتِهِ بِثَلاَثٍ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ
English Translation
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said: "Thursday! And what a Thursday!" Then he wept until his tears stained the pebbles. He said: "The illness of the Messenger of Allah (peace be upon him) became severe on a Thursday. He said: 'Bring me writing materials so I can write for you a document after which you will never go astray.' But they disputed, and there should be no disputing in the presence of a prophet. They said: 'The Messenger of Allah is overcome by pain.' He said: 'Leave me, for what I am in is better than what you are calling me to.'"
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جمعرات کے دن، اور معلوم ہے جمعرات کا دن کیا ہے؟ پھر آپ اتنا روئے کہ کنکریاں تک بھیگ گئیں۔ آخر آپ نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بیماری میں شدت اسی جمعرات کے دن ہوئی تھی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے صحابہ سے فرمایا:”قلم دوات لاؤ، تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی کتاب لکھوا جاؤں کہ تم (میرے بعد اس پر چلتے رہو تو) کبھی گمراہ نہ ہو سکو۔“اس پر صحابہ میں اختلاف ہو گیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نبی کے سامنے جھگڑنا مناسب نہیں ہے۔“صحابہ نے کہا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم(بیماری کی شدت سے) بِراہ رہے ہیں۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اچھا، اب مجھے میری حالت پر چھوڑ دو، میں جس حال میں اس وقت ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو تم کرانا چاہتے ہو۔“آخر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی وفات کے وقت تین وصیتیں فرمائی تھیں۔ یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کر دینا۔ دوسرے یہ کہ وفود سے ایسا ہی سلوک کرتے رہنا، جیسے میں کرتا رہا (ان کی خاطرداری ضیافت وغیرہ) اور تیسری ہدایت میں بھول گیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الوصية/حدیث: 1059]
