Arabic (Original)
1060 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلُمُّوا أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَهُ الْوَجَعُ، وَعِنْدَكُمْ القُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا؛ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ غَيْرَ ذلِكَ فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالاخْتِلافَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُومُوا قَالَ عُبَيْدُ اللهِ(الرَّاوِي)فَكَانَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذلِكَ الْكِتَابَ، لاِخْتِلاَفِهِمْ وَلَغَطِهِمْ
English Translation
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said: When the Messenger of Allah (peace be upon him) was on his deathbed and there were men in the house, the Prophet said: "Come, let me write for you a document after which you will never go astray." Some of them said: "The Messenger of Allah is overcome by pain, and you have the Quran. The Book of Allah is sufficient for us." The people in the house differed and disputed. Some said: "Bring writing materials so he can write for you a document after which you will never go astray." Others disagreed. When the dispute and clamor increased, the Messenger of Allah said: "Leave me."
Urdu Translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی وفات کا وقت قریب ہوا تو گھر میں بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:”لاؤ، میں تمہارے لیے ایک دستاویز لکھ دوں، اگر تم اس پر چلتے رہے تو پھر تم گمراہ نہ ہو سکو گے۔“اس پر (بعض لوگوں) نے کہا کہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمپر بیماری کی سختی ہو رہی ہے، تمہارے پاس قرآن موجود ہے؛ ہمارے لیے تو اللہ کی کتاب بس کافی ہے۔ پھر گھر والوں میں جھگڑا ہونے لگا، بعض نے تو یہ کہا کہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکو کوئی چیز لکھنے کے لیے دے دو کہ اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمہدایت لکھوا دیں اور تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو سکو، بعض لوگوں نے اس کے خلاف دوسری رائے پر اصرار کیا۔ جب شور و غل اور نزاع زیادہ ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہاں سے جاؤ۔“عبیداللہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ مصیبت سب سے بڑی یہ تھی کہ لوگوں نے اختلاف اور شور کر کے آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکو وہ ہدایت نہیں لکھنے دی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الوصية/حدیث: 1060]
