Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ثُمَامَةَ الْحَنَفِيَّ أُسِرَ فَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ «مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ » فَيَقُولُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تَمُنَّ تَمُنَّ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ تُعْطَ مَا شِئْتَ قَالَ فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ ﷺ يُحِبُّونَ الْفِدَاءَ وَيَقُولُونَ مَا نَصْنَعُ بِقَتْلِ هَذَا «فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمًا فَأَسْلَمَ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «لَقَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ صَاحِبِكُمْ»
English Translation
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrated that Thumamah al-Hanafi was captured. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would come to him and ask: 'What do you have to say, O Thumamah?' He would reply: 'If you kill me, you kill a man of noble blood. If you show grace, you show grace to one who is grateful. And if you want wealth, ask and you shall be given what you wish.' The Companions of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) preferred ransom and said: 'What benefit is there in killing him?' One day the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) passed by him and he accepted Islam. He was sent to the garden of Abu Talhah and was commanded to take a bath. He took a bath and prayed two rak'ahs. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Indeed the Islam of your companion has become good.'
Urdu Translation
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ثمامہ حنفی قید ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آتے اور پوچھتے: اے ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟ وہ کہتے: اگر قتل کرو گے تو خون والے کو قتل کرو گے، اگر احسان کرو گے تو شکرگزار پر احسان کرو گے، اگر مال چاہتے ہو تو جو چاہو مانگ لو۔ صحابہ کرام فدیہ پسند کرتے تھے اور کہتے: اس کے قتل سے کیا فائدہ؟ ایک دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ آپ نے انہیں ابو طلحہ کے باغ میں بھیجا اور غسل کا حکم دیا، انہوں نے غسل کیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھی کا اسلام بہت اچھا ہوا۔
