Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ : " كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، وَكَانَ لَا يَدِينُ لِلَّهِ دِينًا، وَإِنَّهُ لَبِثَ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ عُمُرٌ وَبَقِيَ عُمُرٌ، فَعَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، فَدَعَا بَنِيهِ، فَقَالَ : أَيُّ أَبٍ تَعْلَمُونِي؟ قَالُوا : خَيْرُهُ يَا أَبَانَا، قَالَ : فَإِنِّي لَا أَدَعُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَخَذْتُهُ مِنْكُمْ، أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ، قَالَ : فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا وَرَبِّي، قَالَ : أَمَّا أَنَا إِذَا مُتُّ فَخُذُونِي فَأَحْرِقُونِي بِالنَّارِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَدُقُّونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ، قَالَ : فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ، فَجِيءَ بِهِ أَحْسَنَ مَا كَانَ قَطُّ، فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ، فَقَالَ :مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ؟ قَالَ : خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ، قَالَ : إِنِّي أَسْمَعُكَ لَرَاهِبًا، قَالَ : فَتِيبَ عَلَيْهِ ". قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : يَبْتَئِرُ، يَدَّخِرُ
English Translation
Hadrat Bahz ibn Hakim narrated from his father, from his grandfather (may Allah be well pleased with them) who said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stating: "There was a servant among the servants of Allah who did not practice any religion for Allah. He lived until one part of his life had passed and another remained. He realized he had stored no good deeds with Allah, so he called his sons and asked: 'What kind of father do you consider me?' They replied: 'The best father.' He said: 'I have not stored any good with Allah. When I die, burn me, grind me to powder, and scatter me in the wind.' They did so, but Allah gathered him and asked: 'What made you do that?' He said: 'Fear of You, O my Lord.' So Allah forgave him."
Urdu Translation
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا جو اللہ کے لیے کوئی دین نہیں رکھتا تھا۔ وہ اتنا جیا کہ اس کی ایک عمر گزر گئی اور ایک باقی رہی۔ اسے معلوم ہوا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی جمع نہیں کی۔ اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور پوچھا: تم مجھے کیسا باپ جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: بہترین باپ۔ اس نے کہا: میں نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں بھیجی، جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پیس دینا اور ہوا میں بکھیر دینا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا لیکن اللہ نے اسے جمع کیا اور پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: تیرے ڈر سے، اے میرے رب! تو اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔"
