Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ، أَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، وَأَشَارَ الآخَرُ بِغَيْرِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ إِنَّمَا أَرَدْتَ خِلاَفِي. فَقَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ. فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ {عَظِيمٌ}. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَكَانَ عُمَرُ بَعْدُ ـ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ ـ إِذَا حَدَّثَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِحَدِيثٍ حَدَّثَهُ كَأَخِي السِّرَارِ، لَمْ يُسْمِعْهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ.
English Translation
Muhammad bin Muqatil narrated to us, he said Waki' informed us, from Nafi' bin Umar, from Ibn Abi Mulaykah (upon him be mercy) who said: The two righteous ones (Hadrat Abu Bakr, may Allah be well pleased with him, and Hadrat Umar, may Allah be well pleased with him) nearly perished. When a delegation from Banu Tamim came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) suggested al-Aqra' bin Habis al-Tamimi as their leader, while Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) suggested al-Qa'qa' bin Ma'bad. Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) said: "You only wish to oppose me." Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: "I did not intend to oppose you." Their voices were raised, and thereupon this verse was revealed: "O you who believe! Do not put yourselves forward before Allah and His Messenger" (al-Hujurat 49:1).
Urdu Translation
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں وکیع نے خبر دی، ان سے نافع بن عمر نے، ان سے ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا: قریب تھا کہ دو نیک انسان (حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہلاک ہو جاتے۔ جب بنو تمیم کا وفد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقرع بن حابس تمیمی کو ان کا امیر بنانے کی تجویز پیش کی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قعقاع بن معبد کا نام پیش کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم تو صرف میری مخالفت کرنا چاہتے ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا۔ دونوں کی آواز بلند ہو گئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» (اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو)۔
