Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي أَصْحَابِهِ، فَعَرَفَ الْجُوعَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَهَبَ إِلَى غُلاَمِهِ اللَّحَّامِ فَقَالَ اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً، لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَامِسَ خَمْسَةٍ. فَصَنَعَ لَهُ طُعَيِّمًا، ثُمَّ أَتَاهُ فَدَعَاهُ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا شُعَيْبٍ إِنَّ رَجُلاً تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ ". قَالَ لاَ بَلْ أَذِنْتُ لَهُ.
English Translation
It is narrated by Hadrat Abu Mas`ud Al-Ansari that There was an Ansari man nicknamed, Abu Shu'aib, who had a slave who was a butcher. He came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while he was sitting with his companions and noticed the signs of hunger on the face of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). So he went to his butcher slave and said, "Prepare for me a meal sufficient for five persons so that I may invite the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) along with four other men." He had the meal prepared for him and invited him. A (sixth) man followed them. the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "O Abu Shu'aib! Another man has followed us. If you wish, you may invite him; and if you wish, you may refuse him." Abu Shu'aib said, "No, I will admit him
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے، اور ان سے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ جماعت انصار کے ایک صحابی ابوشعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک سے فاقہ کا اندازہ لگا لیا۔ چنانچہ وہ اپنے گوشت فروش غلام کے پاس گئے اور کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دو۔ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ دعوت دوں گا۔ غلام نے کھانا تیار کر دیا۔ اس کے بعد ابوشعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے اور آپ کو کھانے کی دعوت دی۔ ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے ابوشعیب! یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہیں، اگر تم چاہو تو انہیں بھی اجازت دے دو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔
