Arabic (Original)
{حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ لَيْلَةً فَقَالَ " أَلاَ تُصَلِّيَانِ ". فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا. فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا. ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهْوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهْوَ يَقُولُ "وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً}".
English Translation
It is narrated from Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) who said: One night the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to me and Hadrat Fatima al-Zahra (may Allah be well pleased with her) and declared: 'Will you not offer the (Tahajjud) prayer?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Our souls are in the hands of Allah. When He wills, He will awaken us.' When I said this, he went back without replying anything. Then I heard him striking his thigh while departing, saying: 'And man is the most argumentative of all creatures.'
Urdu Translation
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک رات میرے اور حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: کیا تم دونوں (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے قبضے میں ہیں، جب وہ چاہے ہمیں اٹھا دے۔ جب میں نے یہ عرض کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم واپس جاتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مار کر فرما رہے تھے: «وكان الإنسان أكثر شيء جدلا» (اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے)۔
