العربية (الأصل)
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" كَلَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَذَا الْبَحْرَ الْغَرْبِيَّ، فَقَالَ: يَا بَحْرُ! إِنِّي خَلَقْتُكَ، وَأَحْسَنْتُ خَلْقَكَ، وَأَكْثَرْتُ فِيكَ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا لِي يُكَبِّرُونِي، وَيَحْمَدُونِي، وَيُسَبِّحُونِي، وَيُهَلِّلُونِي، فَكَيْفَ أَنْتَ فَاعِلٌ بِهِمْ؟ قَالَ: أُغْرِقُهُمْ، قَالَ: بَأْسُكَ فِي نَوَاحِيكَ، وَأَحْمِلُهُمْ عَلَى يَدَيَّ، وَكَلَّمَ اللَّهُ الْبَحْرَ الشَّرْقِيَّ، فَقَالَ: يَا بَحْرُ! إِنِّي خَلَقْتُكَ، وَأَحْسَنْتُ خَلْقَكَ، وَأَكْثَرْتُ فِيكَ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا لِي يُكَبِّرُونِي، وَيَحْمَدُونِي، وَيُسَبِّحُونِي، وَيُهَلِّلُونِي، فَكَيْفَ أَنْتَ فَاعِلٌ بِهِمْ؟ فَقَالَ: إِذًا أُسَبِّحُكَ مَعَهُمْ، وَأُهَلِّلُكَ مَعَهُمْ، وَأَحْمِلُهُمْ بَيْنَ ظَهْرِي وَبَطْنِي , فَأَثَابَهُ رَبُّهُ الْحِلْيَةَ وَالصَّيْدَ.
الترجمة الإنجليزية
Abdullah ibn 'Amr (may Allah be pleased with them both) reported: "Allah the Blessed and Exalted addressed the western sea and said: 'O sea, I have created you and perfected your creation and filled you with much water. I shall carry upon you servants of Mine who glorify Me, praise Me, exalt Me, and declare My oneness. How will you treat them?' It said: 'I will drown them.' Allah said: 'Your might shall be at your edges, and I will carry them upon My hands.' Then Allah addressed the eastern sea and said the same. The eastern sea said: 'I will glorify You with them and declare Your oneness with them, and I will carry them upon my surface and my depths.' So its Lord rewarded it with jewelry and fish."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغربی سمندر سے کلام کیا اور فرمایا:”اے سمندر! میں نے تجھے پیدا کیا ہے، اور تیرے پیدا کرنے کو خوب بہتر بنایا ہے، اور تجھ میں پانی کو بہت زیادہ رکھا ہے، اور میں اپنے کچھ بندوں کو تجھ پر سوار کرنے والا ہوں جو میری تکبیر، تحمید، تسبیح اور تہلیل کریں گے۔ تو ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟“سمندر نے عرض کیا:”میں انہیں غرق کر دوں گا۔“اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”میں تمہارا قہر تمہارے کناروں میں رکھ دوں گا، اور میں اپنے ان بندوں کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا لوں گا۔“پھر اللہ تعالیٰ نے مشرقی سمندر سے کلام کیا اور فرمایا:”اے سمندر! میں نے تجھے پیدا کیا ہے، اور تیرے پیدا کرنے کو خوب بہتر بنایا ہے، اور تجھ میں پانی کو بہت زیادہ رکھا ہے، اور میں اپنے کچھ بندوں کو تجھ پر سوار کرنے والا ہوں جو میری تکبیر، تحمید، تسبیح اور تہلیل کریں گے۔ تو ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟“مشرقی سمندر نے عرض کیا:”میں ان کے ساتھ مل کر تیری تسبیح، تحمید، اور تہلیل کروں گا اور انہیں اپنے اوپر، اپنے بطن اور اپنی پشت پر اٹھائے رکھوں گا۔“اللہ تعالیٰ نے اسے بدلے میں زیورات اور شکار کا انعام عطا فرمایا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3566]
