العربية (الأصل)
1901 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنه(وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا)قَالَ: كَانَ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ، فَلَحِقَهُ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غُنَيْمَتَهُ فَأَنْزَلَ اللهُ فِي ذَلِكَ، إِلَى قَوْلِهِ(عَرَضَ الْحَياةِ الدُّنْيَا)تِلْكَ الْغُنَيْمَةُ
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said regarding the verse: "And do not say to the one who extends to you peace: 'You are not a believer'" (4:94). He said: A man was with his small flock of sheep when the Muslims caught up to him. He said: "Peace be upon you." But they killed him and took his sheep. Allah revealed this verse, and His saying "the goods of this worldly life" refers to that flock of sheep.
الترجمة الأردية
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت”اور جو تمہیں سلام کرتا ہو اسے یہ مت کہہ دیا کرو کہ تو تو مومن ہی نہیں ہے۔“کے بارے میں فرمایا کہ ایک صاحب (مرداس نامی) اپنی بکریاں چرا رہے تھے، ایک مہم پر جاتے ہوئے کچھ مسلمان انہیں ملے تو انہوں نے کہا”السلام علیکم“لیکن مسلمانوں نے بہانہ خور جان کر انہیں قتل کر دیا اور ان کی بکریوں پر قبضہ کر لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی آخر آیت”عرض الحیاۃ الدنیا“سے اشارہ انہی بکریوں کی طرف تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب التفسير/حدیث: 1901]
