العربية (الأصل)
1902 صحيح حديث الْبَرَاءِ رضي الله عنه، قَالَ: نَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ فِينَا كَانَتِ الأَنْصَارُ، إِذَا حَجُّوا فَجَاءُوا، لَمْ يَدْخُلُوا مِنْ قِبَلِ أَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ، وَلكِنْ مِنْ ظُهُورِهَا فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ قِبَلِ بَابِهِ، فَكَأَنَّهُ عُيِّرَ بِذلِكَ، فَنَزَلَتْ(وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا)
الترجمة الإنجليزية
Al-Bara' (may Allah be pleased with him) said: "This verse was revealed about us. The Ansar, when they went on pilgrimage and returned, would not enter their houses through their doors but from behind. A man from the Ansar came and entered through his door, and he was criticized for it. Then this verse was revealed: 'It is not righteousness that you enter houses from the back, but righteousness is in fearing Allah. And enter houses from their doors' (2:189)."
الترجمة الأردية
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی انصار جب حج کے لیے آتے تو (احرام کے بعد) گھروں میں دروازوں سے نہیں جاتے تھے، بلکہ دیواروں سے کود کر (گھر کے اندر) داخل ہو ا کرتے تھے۔ پھر اسلام لانے کے بعد ایک انصاری شخص آیا اور دروازے سے گھر میں داخل ہو گیا، اس پر لوگوں نے لعنت ملامت کی تو یہ وحی نازل ہوئی کہ”یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ گھروں میں پیچھے سے (دیواروں پر چڑھ کر) آؤ، بلکہ نیک وہ شخص ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب التفسير/حدیث: 1902]
