العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ قَالَا ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثَنَا أَبُو صَالِحٍ غَالِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي سَهْلٍ عَنْ مُنْيَةَ الْأَزْدِيَّةِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَيْبَةَ قَالَ اخْتَلَفْنَا هَاهُنَا فِي الْوُرُودِ فَقَالَ قَوْمٌ لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ آخَرُونَ يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقُوا فَقُلْتُ لَهُ إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِيهَا بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ قَوْمٌ لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ آخَرُونَ يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقُوا فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ فَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ الْوُرُودُ الدُّخُولُ لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ أَوْ قَالَ لِجَهَنَّمَ ضَجِيجًا مِنْ نَزْفِهَا ثُمَّ قَالَ ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا ويَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» صحيح
الترجمة الإنجليزية
Hadrat 'Abd al-Rahman ibn Shaybah (may Allah have mercy upon him) narrated: We differed here regarding the meaning of 'al-wurud' (passing over). Some people said, 'No believer shall enter it,' and others said, 'They shall all enter it, then Allah shall save those who were pious.' So I said to him, 'We also differed about it in Basrah,' and he pointed his fingers to his ears and said, 'May they go deaf if I did not hear the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: "Al-wurud means entering. None shall remain — neither righteous nor wicked — except that he shall enter it. It shall be cool and peaceful for the believer, just as it was for Ibrahim (upon him be blessings and peace), until the Fire — or he said Hell — shall cry out from its quenching. Then He shall save those who were pious, and leave the wrongdoers therein on their knees."' This hadith has a sound chain and they did not record it. [Al-Dhahabi said]: Authentic.
الترجمة الأردية
حضرت عبدالرحمن بن شیبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ہمارا یہاں ورود کے بارے میں اختلاف ہوا۔ بعض نے کہا: کوئی مومن اس میں داخل نہ ہوگا، اور بعض نے کہا: سب داخل ہوں گے پھر اللہ متقیوں کو بچائے گا۔ میں نے ان سے کہا: ہمارا بصرہ میں بھی اختلاف ہوا — تو انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں پر رکھیں اور کہا: یہ بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے نہ سنا ہو کہ آپ نے فرمایا: "ورود سے مراد داخل ہونا ہے۔ نہ نیک بچے گا نہ بدکار، سب داخل ہوں گے۔ مومن پر یہ ایسے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگی جیسی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر تھی، یہاں تک کہ آگ — یا فرمایا جہنم — کو اس کے بجھنے سے فریاد ہوگی۔ پھر اللہ متقیوں کو بچائے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دے گا۔" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن دونوں نے اسے نقل نہیں کیا۔ صحیح ہے۔
