العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ عُكْلٍ ـ أَوْ قَالَ عُرَيْنَةَ وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ مِنْ عُكْلٍ ـ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَشَرِبُوا حَتَّى إِذَا بَرِئُوا قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غُدْوَةً فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي إِثْرِهِمْ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، فَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلاَ يُسْقَوْنَ. قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ هَؤُلاَءِ قَوْمٌ سَرَقُوا، وَقَتَلُوا، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
الترجمة الإنجليزية
Qutaybah ibn Sa'id narrated to us, Hammad narrated to us, from Ayyub, from Abu Qilabah, from Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him), that a group from 'Ukl — or he said 'Uraynah, and I believe he said 'Ukl — came to Madinah. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) provided them with milch she-camels and ordered them to go out and drink their urine and milk. They drank until, when they recovered, they killed the herdsman and drove away the camels. The news reached the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) in the morning, and he sent riders in pursuit. Before the day had risen high, they were brought in. He ordered their hands and feet to be cut off, their eyes to be branded with nails, and they were thrown onto the Harrah, begging for water but not given any. Abu Qilabah said: These were people who stole, killed, disbelieved after their faith, and waged war against Allah and His Messenger.
الترجمة الأردية
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے ابو قلابہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ عُکل — یا عرینہ — کی ایک جماعت اور مجھے خیال ہے کہ عُکل ہی کہا تھا — مدینے آئی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا بندوبست فرمایا اور حکم دیا کہ باہر جا کر ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ انہوں نے پیا یہاں تک کہ جب تندرست ہو گئے تو چرواہے کو قتل کر کے اونٹ ہانک لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو صبح خبر ملی تو آپ نے ان کے تعاقب میں سوار بھیجے۔ ابھی دن بلند ہوا بھی نہ تھا کہ وہ پکڑ کر لائے گئے۔ آپ نے حکم فرمایا تو ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے اور آنکھوں میں کیلیں پھیری گئیں اور حرّہ میں ڈال دیے گئے، وہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں نہیں دیا گیا۔ ابو قلابہ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے چوری کی، قتل کیا، ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔
