العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَهْطًا، مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْغِنَا رِسْلاً. قَالَ " مَا أَجِدُ لَكُمْ إِلاَّ أَنْ تَلْحَقُوا بِالذَّوْدِ ". فَانْطَلَقُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا حَتَّى صَحُّوا وَسَمِنُوا، وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ، فَأَتَى الصَّرِيخُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَبَعَثَ الطَّلَبَ، فَمَا تَرَجَّلَ النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ أَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَكَحَلَهُمْ بِهَا، وَطَرَحَهُمْ بِالْحَرَّةِ، يَسْتَسْقُونَ فَمَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا. قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ قَتَلُوا وَسَرَقُوا وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم وَسَعَوْا فِي الأَرْضِ فَسَادًا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) that a group of eight men from 'Ukl came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), but the climate of Madinah did not suit them. They submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Provide us with milk. He declared: "I have nothing for you except that you go to the (charity) camels." They went and drank their milk and urine until they became healthy and stout. Then they killed the herdsman, drove away the camels, and apostatized from Islam. A distress call reached the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He sent men in pursuit. Before the day had fully risen, they were brought. He had their hands and feet cut off, then had iron nails heated and branded their eyes with them, and cast them in al-Harra. They begged for water but were given none until they died. Abu Qilaba said: They killed, stole, waged war against Allah and His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), and spread corruption in the land.
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عُکل کے آٹھ آدمیوں کا ایک گروہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، لیکن مدینے کی آب و ہوا ان کو راس نہ آئی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے دودھ کا بندوبست فرمائیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "میرے پاس تمہارے لیے اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم (صدقے کے) اونٹوں کے پاس چلے جاؤ۔" وہ گئے اور ان کے دودھ اور پیشاب پیے یہاں تک کہ صحت یاب اور موٹے تازے ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا، اونٹ ہانک لے گئے اور اسلام سے مرتد ہو گئے۔ فریادی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے تعاقب کے لیے بھیجا۔ دن چڑھنے سے پہلے وہ پکڑ لائے گئے۔ آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹوائے، پھر لوہے کی کیلیں گرم کروائیں اور ان سے ان کی آنکھیں داغیں، اور انہیں حرّہ میں ڈال دیا۔ وہ پانی مانگتے رہے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا یہاں تک کہ مر گئے۔ ابوقلابہ فرماتے ہیں: انہوں نے قتل کیا، چوری کی، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کی اور زمین میں فساد پھیلایا۔
