العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَ الآيَاتُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا، خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ حَرَّمَ تِجَارَةَ الْخَمْرِ.
الترجمة الإنجليزية
Narrated by Hadrat ' Aisha al-Siddiqah (may Allah be well pleased with her) who said: When the verses of Surah al-Baqarah regarding usury (riba) were revealed, the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went to the mosque and recited them before the people, then he declared the trade of wine as unlawful.
الترجمة الأردية
ہم سے عبدان بن عبداللہ بن حضرت عثمان نے ابوحمزہ محمد بن میمون کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔ آپ فرماتی ہیں: جب سورۃ البقرہ کی سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے اور لوگوں کے سامنے ان آیات کی تلاوت فرمائی، پھر شراب کی تجارت کو حرام قرار دیا۔
