العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا، يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ وَقَالَ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ. قَالَ مَسْرُوقٌ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكِ. وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ}. فَقَالَتْ وَأَىُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى. قَالَتْ لَهُ إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ ـ أَوْ يُهَاجِي ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
الترجمة الإنجليزية
Masruq (upon him be mercy) states, 'We visited Umm al-Mu'minin Hadrat Aishah al-Siddiqah (may Allah be well pleased with her) while Hadrat Hassan bin Thabit (may Allah be well pleased with him) was reciting poetry to her. He recited some verses saying: She is chaste and dignified, no accusation can touch her; she rises in the morning and does not consume the flesh of the heedless (i.e., does not backbite). Hadrat Aishah (may Allah be well pleased with her) said: But you are not like that. Masruq says: I submitted: Why do you permit him to visit you when Allah the Exalted has stated: And he among them who took upon himself the greater part thereof, for him is a grievous punishment? Hadrat Aishah (may Allah be well pleased with her) replied: What punishment could be greater than blindness?'
الترجمة الأردية
مسروق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ہم حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور ان کے پاس حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اشعار سنا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے کچھ اشعار میں فرمایا: وہ پاکدامن ہیں، سنجیدہ ہیں، ان پر کوئی تہمت نہیں لگ سکتی، وہ صبح اٹھتی ہیں تو غافل لوگوں کے گوشت (غیبت) نہیں کھاتیں۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: لیکن تم ایسے نہیں ہو (یعنی غیبت سے نہیں بچتے)۔ مسروق فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: آپ انہیں اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 'اور ان (تہمت لگانے والوں) میں سے جس نے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔' حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اندھے پن سے بڑا عذاب کیا ہو گا؟
