العربية (الأصل)
1619 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، وَعِنْدَهَا حَسَّان بْنُ ثَابِتٍ، يُنْشِدُهَا شِعْرًا، يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ، وَقَالَ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: لكِنَّكَ لَسْتَ كَذلِكَ قَالَ مَسْرُوقٌ: فَقلْتُ لَهَا لِمَ تَأْذَنِي لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى(وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ)فَقَالَتْ: وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمى قَالَتْ لَهُ: إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ، أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated 'A'ishah (may Allah be pleased with her): Masruq said, "We entered upon 'A'ishah while Hassan ibn Thabit was with her, reciting poetry to her. He said (in verse): 'She is chaste, dignified, above suspicion, and she wakes hungry from the flesh of the heedless (i.e., she does not engage in backbiting).' 'A'ishah said to him, 'But you are not like that.' Masruq said, 'I asked her, Why do you allow him to enter upon you when Allah has said: And the one who took the lead among them will have a great punishment?' She said, 'What punishment is greater than blindness?' She said to him, 'He used to defend — or satirize back on behalf of — the Messenger of Allah (peace be upon him).'"
الترجمة الأردية
مسروق نے بیان کیا کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے یہاں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ موجود تھے اور وہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اپنے اشعار سنا رہے تھے، ایک شعر تھا جس کا ترجمہ یہ ہے:«حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ، وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ»”وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جس پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی، وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتی۔“اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ لیکن تم تو ایسے نہیں ثابت ہوئے۔ مسروق نے بیان کیا کہ پھر میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ آپ انہیں اپنے یہاں آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرما چکا ہے:﴿وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾[سورة النور: 11]”اور ان میں وہ شخص جو تہمت لگانے میں سب سے زیادہ ذمہ دار ہے اس کے لیے بڑا عذاب ہو گا۔“اس پر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نابینا ہو جانے سے سخت اور کیا عذاب ہو گا (حسان رضی اللہ عنہ کی بصارت آخر عمر میں چلی گئی تھی)، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی حمایت کیا کرتے تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1619]
