العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَأَبَتَّ طَلاَقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، إِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ. فَقَالَ " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ ". وَأَبُو بَكْرٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلاَ تَسْمَعُ إِلَى هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
الترجمة الإنجليزية
Narrated to us by Abdullah bin Muhammad, narrated to us by Sufyan, from al-Zuhri, from Urwah, from Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha Siddiqah (may Allah be well pleased with her), that the wife of Rifa'ah al-Qurazi came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted, 'I was married to Rifa'ah, and he divorced me irrevocably. Then I married Abdur-Rahman bin al-Zubair, but what he has is like the fringe of a garment (meaning he is impotent).' He (blessings and peace of Allah be upon him) declared, 'Do you wish to return to Rifa'ah? No, not until you have tasted his sweetness and he has tasted yours.' Hadrat Abu Bakr Siddiq (may Allah be well pleased with him) was sitting beside him, and Hadrat Khalid bin Sa'id bin al-As (may Allah be well pleased with him) was at the door waiting for permission to enter. He said, 'O Hadrat Abu Bakr! Do you not hear what she is saying openly in the presence of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)?'
الترجمة الأردية
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، زہری سے، عروہ سے، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: میں رفاعہ کے نکاح میں تھی۔ انہوں نے مجھے طلاق دی اور قطعی طلاق دی۔ پھر میں نے عبدالرحمٰن بن حضرت زبیر سے نکاح کیا۔ ان کے ساتھ تو صرف کپڑے کے کنارے جیسا ہے (یعنی وہ مردانگی سے عاجز ہیں)۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، جب تک تم اس کا اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازے پر بیٹھے اجازت کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: اے حضرت ابوبکر! کیا تم نہیں سنتے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیسی بات بلند آواز سے کر رہی ہے۔
