العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ، مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ أُمَّ، الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ بِصَائِمٍ. فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهْوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَهُ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Umm al-Fadl bint al-Harith (may Allah be well pleased with her) that some people were arguing in her presence on the day of Arafat regarding the fast of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Some said he was fasting while others said he was not. She then sent a cup of milk to him (blessings and peace of Allah be upon him) while he was mounted on his camel. He (blessings and peace of Allah be upon him) drank it.
الترجمة الأردية
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حضرت ام فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عمیر نے بیان کیا کہ حضرت ام فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے بیان فرمایا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خبر دی، انہیں عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر نے، انہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے غلام عمیر نے اور انہیں حضرت ام فضل بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ان کے یہاں کچھ لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں بحث کر رہے تھے۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم روزے سے ہیں اور بعض نے کہا کہ روزے سے نہیں ہیں۔ اس پر حضرت ام فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا (تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے)۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ نوش فرما لیا۔
