العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، رضى الله عنهم قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ قَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Umm al-Mu'minin Hadrat Hafsa (may Allah be well pleased with her) that she submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! What is wrong with the people, they have finished their Ihram but you have not?' He stated, 'I matted my hair and I have garlanded my Hadi, so I will not finish my Ihram till I have finished my Hajj.'
الترجمة الأردية
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے فرمایا کہ مجھے نافع نے خبر دی، انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ حضرت اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان فرمایا، کہا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور لوگ تو حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی ہدی کو قلادہ پہنا دیا ہے، اس لیے جب تک حج سے بھی حلال نہ ہو جاؤں میں (درمیان میں) حلال نہیں ہو سکتا۔ (گوند لگا کر سر کے بالوں کا جما لینا اس کو تلبید فرماتے ہیں)۔
