العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Ibn ‘Umar that Hadrat Hafsah, the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated:“I said: ‘O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), what is the matter with people who have exited Ihram when you have not exited your Ihram?’ He said: ‘I have applied something to my head to keep my hair together, and I have garlanded my sacrificial animal, so I will not exit Ihram until I have offered my sacrifice.’”
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے اپنے عمرے سے احرام کھول دیا، اور آپ نے نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎ کی تھی، اور ہدی ( کے جانور ) کو قلادہ پہنایا تھا ۲؎ اس لیے جب تک میں قربانی نہ کر لوں حلال نہیں ہو سکتا ۳؎۔
