العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ أُحِلَّ لَهُ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Umm al-Mu'minin Hadrat 'Aisha (may Allah be well pleased with her) that I twisted with my own hands the garlands for the Budn (sacrificial camels) of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who garlanded and marked them, and then made them proceed to Makkah; yet no permissible thing was regarded as impermissible for him then.
الترجمة الأردية
ہم سے حضرت ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے افلح نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے حضرت حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے ہار میں نے اپنے ہاتھ سے خود بٹے تھے، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہار پہنایا، اشعار فرمایا، ان کو مکہ مکرمہ کی طرف روانہ فرمایا، پھر بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جو چیزیں حلال تھیں وہ (احرام سے پہلے صرف ہدی بھیجنے سے) حرام نہیں ہوئیں۔
