عربی (اصل)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخُبُ دَمًا يَقُولُ يَا رَبِّ هَذَا قَتَلَنِي حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ " . قَالَ فَذَكَرُوا لاِبْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ فَتَلاَ هَذِهِ الآيَةََ: (وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَبَّمُ) قَالَ وَمَا نُسِخَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَلاَ بُدِّلَتْ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat 'Amr bin Dinar that from Hadrat Ibn 'Abbas that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "On the Day of Judgement, the murdered will come with the murderer's scalp and his head in his hand, and his jugular vein flowing blood saying: 'O Lord! This one killed me!' Until he comes close to the Throne." So they mentioned repentance to Hadrat Ibn 'Abbas, and he recited this Ayah: And whoever kills a believer intentionally then his recompense is Hell (4:93). He said: "This Ayah was not abrogated nor (its ruling) replaced so from where is his repentance?
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آ جائے گا، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، ( یہ کہتا ہوا ) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ۱؎ تلاوت کی، اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہوئی ہے اور نہ ہی تبدیل، تو پھر اس کی توبہ کیوں کر قبول ہو گی؟ ۲؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے عمر بن دینار کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے۔
