عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الآيَةِ : ( فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ ) قَالَ رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ . فَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فَرِيقَيْنِ فَرِيقٌ يَقُولُ اقْتُلْهُمْ . وَفَرِيقٌ يَقُولُ لاَ . فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ ) وَقَالَ " إِنَّهَا طِيبَةُ وَقَالَ إِنَّهَا تَنْفِي الْخَبِيثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ هُوَ الأَنْصَارِيُّ الْخَطْمِيُّ وَلَهُ صُحْبَةٌ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat 'Abdullah bin Yazid that from Hadrat Zaid bin Thabit that he heard about this Ayah: Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites? (4:88) He said: "People among the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) returned on the Day of Uhud and there were two parties among them, a group who said: 'Kill them,' and a group that say not to. So Allah revealed this Ayah: Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites? (4:88) So he said: "Indeed it is Taibah (Al-Madinah). And he said: 'It expels filth from it just like the fire expels filth from iron
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ آیت: «فما لكم في المنافقين فئتين» کی تفسیر کے سلسلے میں کہتے ہیں احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ ( ساتھی یعنی منافق میدان جنگ سے ) لوٹ آئے ۱؎ تو لوگ ان کے سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا: انہیں قتل کر دو، اور دوسرے فریق نے کہا: نہیں، قتل نہ کرو تو یہ آیت «فما لكم في المنافقين فئتين» ۱؎ نازل ہوئی، اور آپ نے فرمایا: ”مدینہ پاکیزہ شہر ہے، یہ ناپاکی و گندگی کو ( إن شاء اللہ ) ایسے دور کر دے گا جیسے آگ لوہے کی ناپاکی ( میل و زنگ ) کو دور کر دیتی ہے۔ ( یہ منافق یہاں رہ نہ سکیں گے ) ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن یزید انصاری خطمی ہیں اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔
