عربی (اصل)
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالا فِي قَوْلِهِ: عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ سورة النساء آية 92، قَالا:" الرَّجُلُ يَكُونُ مِنَ الْعَدُوِّ فَيُسْلِمُ فَيُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَ الْمُسْلِمِينَ فَيُقْتَلَ خَطَأً , قَالا: لا دِيَةَ لَهُ وَعَلَيْهِ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ".
انگریزی ترجمہ
Ata ibn Abi Rabah and Mujahid (may Allah have mercy on them) said regarding 'from an enemy people to you, while he is a believer' (al-Nisa: 92): 'This refers to a man from the enemy who accepts Islam and intends to come to the Muslims but is killed by mistake. There is no blood money for him, but a believing slave must be freed.'
اردو ترجمہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہما اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان﴿عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾کی تفسیر میں فرمایا: مراد وہ شخص ہے جو دشمن قوم سے ہو، پھر اسلام لے آئے اور مسلمانوں کے پاس آنا چاہے، لیکن راستے میں غلطی سے قتل کر دیا جائے، تو اس کی دیت نہیں ہے، البتہ قاتل پر ایک مومن غلام آزاد کرنا لازم ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 665]
