عربی (اصل)
نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي الرَّجُلِ يَغْضَبُ عَلَى امْرَأَتِهِ فَلا يَقْرَبُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، قَالَ:" لا يَقَعُ عَلَيْهِ إِيلاءٌ إِلا أَنْ يَكُونَ حَلَفَ، أَوْ قَالَ: لا أَقْرَبُكِ، وَمَا كَانَ مِنْ غَضَبٍ مِنْ قِبَلِ الْمَرْأَةِ فَإِنَّهُ لا يَقَعُ فِيهِ الإِيلاءُ".
انگریزی ترجمہ
Sa'id ibn Jubayr said: "Ila' does not apply to a man unless he has sworn an oath or explicitly said: 'I will not approach you.' And whatever anger comes from the wife's side does not constitute ila'."
اردو ترجمہ
حضرت سعید بن جبير رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص بیوی پر غصہ کرے اور چار مہینے تک اس کے قریب نہ جائے، تو ایلاء واقع نہیں ہوتا، جب تک کہ قسم نہ کھائے یا صاف کہہ دے کہ میں تیرے قریب نہیں آؤں گا، اور اگر عورت کی جانب سے غصہ ہو تو ایلاء نہیں ہوتا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3098]
